ہم سب اپنی زندگیوں کے کسی مرحلہ میں تجربہ رکھتے ہیں کہ ایک دوست، رِشتے دار، یا ایک عزیز کو کھونا کیسا ہوتا ہے۔ سوچیئے جب کہ آپ نے کسی کو کھویا جو آپ سے قریب تھا، کوئی جس سے آپ بہت انتہائی محبت کرتے تھے۔ کیا آپ کو درد محسوس ہوا؟ کیا آپ نے سیاہ لباس پھنا، بیقرار ہوئے، آنسو بھائے یا خود کو پيٹا، یا اپنی بھوک بھی کھویا اور کھانے پینے سے دور رہے؟ کیا آپ نے ان کی یاد میں مجالس رکھے، یا اپنے گھر کے باہر ایک سیاہ نشان رکھا تاکہ واضح کرو کہ آپ سیاہ پوش ہیں؟ کیا آپ نے غریبوں کو کھلایا اور اپنے سماج کو کھانا پیش کیا اپنے چہيتے کی یادگاری میں؟ کیا پھر آپ نے ان کی وفات کی سالگرہ منانے کے لیے ہر سال اور مجالس جاری رکھے؟
یہ قابل فہم ہے کہ آپ اس تعزیہ سے چوٹ محسوس کریں گے۔ ہمارا رد عمل ان حالات میں فطرتی ہے۔ لیکن کبھی کبھی ہمیں پوچھا جاتا ہے کیوں ہم یہ اعمال کرتے ہیں۔ ہم جواب دیتے ہیں کہ جس شخص کی فوت ہوگئی اس کو ہم چاہتے ہیں، وہ ہمارے ما، باپ، ایک قریب رشتے دار، یا دوست تھے۔ دوبارہ پوچھا جاتا ہے کیوں ہم اس طرح رد عمل کرتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ہم ان سے وابستہ محسوس کرتے ہیں کيونکہ انھوں نے اپنا بہت وقت اور آرام قربان کیا ہماری مدد کرنے کے لیے۔ شاید انھوں نے ہماری ديکھ بھال کی ہے جب ہم چھوٹے تھے یا ہمیں کوئی خاص چیز سکھائی۔ ہم انکار نھیں کرسکتے کہ ہمارے چہيتے ہماری زندگیوں کا حصہ ہیں۔ وہ ہمارے لیے اہم ہیں اور اس وجہ سے ہمیں پسند ہے انکی تصویر فريم کرنا ہمارے گھر میں، انکی تصویر ہماری پرس میں رکھنا، یا ہمارے گردن کے گرد ایک لاکٹ میں پہننا۔
پس، جیسے کہ ہم ہمارے ایک عزیز کو کھونے کی اہمیت کی قدردانی کرتے ہیں، یہ فطرتی ہے ان کو یاد کرنا جو اپنے عرصہ حيات میں صرف چند لوگوں کی مدد نھیں بلکہ پوری انسانیت کو نجات دی۔ ایک لمحہ کے لیے اپنے دل کو سنو، کیا یہ معقول نھیں ہے ان شخص کی یاد منانا جنکو ہمارے انبیاء بھی روئے آدم (ع) سے لیکر محمد (ص) تک؟
ہمیں ذہن ميں رکھنا چاہیئے کہ اسلام سے پھلے تمام مذاھب بھی ان کے سينٹ اور انبیاء کی زندگیوں کو یاد کرنے کو اہمیت دی ہے۔ یہ وسيع موضوع ہے، لیکن ابھی کے لیے آپ کو پوچھتا ہوں اسلام کے مقلدین کے طور پر، جو سب سے مکمل دین ہے، کیا ہم سے یہ متوقع نھیں ہے کہ ہم گزشتہ مذاھب کے مقلدین سے بھتر تعمیل کریں؟
کیا ہم نھیں چاہتے انھے یاد کرنا جنھوں نے اپنے آپ کو قربان کیا تاکہ آج تمام باخدا اصول ہم تک پہنچ سکیں؟ کیا ہم پسند نھیں کرتے انھے یاد کرنا جو بہت مہربان اور رحم دل تھے کہ انھوں نے کبھی اپنے دشمن کو ایذا نہیں پہنچایا؟ ہم ایسے شخص کی بات کر رہے ہیں جنھوں نے اپنا پانی کا حصہ اپنے دشمن اور ان کے گھوڑوں کو پلایا ان کی پياس بجھانے کے لیے۔
لیکن انھوں نے کیا تحفہ واپس دیا؟ نا صرف انھوں نے پانی کا ایک قطرہ روکا ان کے شش ماہ بچے کی پیاس بجھانے کے لیے، لیکن انھوں نے ایک تير بھی مارا اس بچہ پر جو اتنا خشک تھا کہ وہ نہ رو سکا! اب آپ سمجھنا شروع کر رہے ہیں کہ یہ شخص کون ہے؟
یہ حسین ابن علی ابن ابی طالب کے علاوہ کوئی اور نھیں ہے۔
اھل البیت (ع) سے بیان ہوا ہے کہ کبھی بھی ہماری تاریخ میں ایسا کوئی واقعہ پیش نھیں آیا ہے جو زیادہ دردناک ہو بمقابلہ شہادت امام حسین (ع)۔ چناچہ، کوئی تعزیہ یا ماجرا ہم مرتبہ شہادت امام حسین (ع) نھیں ہے۔ اھل البیت (ع) ہی ہیں جنھوں نے ہماری روحانی مدد کی ہے، اس ليے ان کو کھونا ہمارا عظیم نقصان ہے۔
تاکہ یقین آیے اور ایک نتیجہ سامنے آیے بحوالہ یادگاری شھادت امام حسین (ع)، ہم اب آپ کو پیش کریں گے کہ عالم اسلام کے سب سے زیادہ علم والے لوگ کیا کھتے ہیں ان اعمال کے بارے میں۔ ہم نے مراجع کے فتوں کو تالیف کیئے ہیں اور جن کے درميان زیادہ تر اعلی علماء ہیں۔ جیسے تمام ايمان کے حصوں کے لیے، ہم پر لازمی ہے کہ ہم ان علم کے نمونوں کی رائے طلب کریں اور ان کے فیصلہ کے مطابق عمل کریں۔
"خدا یا مجھ کو امام حسین (ع) کی شفاعت نصیب کر وارد ہونے کے دن"
آپ سب کے لیے بہترين کامیابی خواہش کرتا ہوں
غلام امام حسین (ع) کے غلاموں کا،
سید مصطفیٰ فصیحی