ایک مخصوص پیغام
سید مصطفیٰ فصیحی سے، ہماری کتاب "یادگاری شھادت امام حسین (ع)" کا موٴلف

ہم سب اپنی زندگیوں کے کسی مرحلہ میں تجربہ رکھتے ہیں کہ ایک دوست، رِشتے دار، یا ایک عزیز کو کھونا کیسا ہوتا ہے۔ سوچیئے جب کہ آپ نے کسی کو کھویا جو آپ سے قریب تھا، کوئی جس سے آپ بہت انتہائی محبت کرتے تھے۔ کیا آپ کو درد محسوس ہوا؟ کیا آپ نے سیاہ لباس پھنا، بیقرار ہوئے، آنسو بھائے یا خود کو پيٹا، یا اپنی بھوک بھی کھویا اور کھانے پینے سے دور رہے؟ کیا آپ نے ان کی یاد میں مجالس رکھے، یا اپنے گھر کے باہر ایک سیاہ نشان رکھا تاکہ واضح کرو کہ آپ سیاہ پوش ہیں؟ کیا آپ نے غریبوں کو کھلایا اور اپنے سماج کو کھانا پیش کیا اپنے چہيتے کی یادگاری میں؟ کیا پھر آپ نے ان کی وفات کی سالگرہ منانے کے لیے ہر سال اور مجالس جاری رکھے؟
یہ قابل فہم ہے کہ آپ اس تعزیہ سے چوٹ محسوس کریں گے۔ ہمارا رد عمل ان حالات میں فطرتی ہے۔ لیکن کبھی کبھی ہمیں پوچھا جاتا ہے کیوں ہم یہ اعمال کرتے ہیں۔ ہم جواب دیتے ہیں کہ جس شخص کی فوت ہوگئی اس کو ہم چاہتے ہیں، وہ ہمارے ما، باپ، ایک قریب رشتے دار، یا دوست تھے۔ دوبارہ پوچھا جاتا ہے کیوں ہم اس طرح رد عمل کرتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ہم ان سے وابستہ محسوس کرتے ہیں کيونکہ انھوں نے اپنا بہت وقت اور آرام قربان کیا ہماری مدد کرنے کے لیے۔ شاید انھوں نے ہماری ديکھ بھال کی ہے جب ہم چھوٹے تھے یا ہمیں کوئی خاص چیز سکھائی۔ ہم انکار نھیں کرسکتے کہ ہمارے چہيتے ہماری زندگیوں کا حصہ ہیں۔ وہ ہمارے لیے اہم ہیں اور اس وجہ سے ہمیں پسند ہے انکی تصویر فريم کرنا ہمارے گھر میں، انکی تصویر ہماری پرس میں رکھنا، یا ہمارے گردن کے گرد ایک لاکٹ میں پہننا۔










