ادورد جیبون (انگلش مورخ، جو برٹش پارلیمینٹ کا ایک ممبر ہے) وه كہتا ہے
امام حسین عليہ السّلام کی شہادت دردناک نے جو (چوده سو سال قبل كربلا ميں واقع ہوئی) ہر انسان كے قلب و جگر كو برماديا يہانتک كہ شقى و سخت قلب افراد بھى سوچنے پر مجبور ہوگۓ۔
(حكومت روم كا زوال پذير ہونا، لندن، جزء ٥، صفحہ ٣٩١-٣٩٢)
ڈاکٹر۔ ک۔شیلدریک:
اس شیر دل مجموعے میں (امام حسين عليہ السّلام اصحاب و انصار) ہر مرد و عورت جانتا تھا کہ پتھر دل دشمن جنہوں نے انکو گھیرا ہوا ہے وہ صرف جنگ، قتال اور غارت گری کے لئے آمادہ نہیں ہیں بلکہ وہ انکو اور ان كے مقصد كو صفحۂ ہستى سے مٹانے كے ليے جمع ہوئے ہیں۔ وه فوج يزيدى جو امام حسین عليہ السّلام كے أصحاب و انصار كو گھيرے ہوۓ تھى، اس نے اسقدر ظلم كيا كہ امام حسين عليہ السّلام کے چھوٹے چھوٹے بچوں اور عورتوں پر پانى تک بند كرديا، بچے اور خواتين تيز چلچلاتی ہوئى دھوپ ميں تين دن تک بھوکے پياسے رہے ليكن ان تمامتر مصائب كے باوجود كسى ايک نے بھی (بيعت يزيد كو قبول نہيں كيا) امام حسين عليہ السّلام كا اقدام نہ حكومت كى طمع ميں تھا, نہ شہرت كے ليے, بلكہ اسلام كى بقاء كے ليے اعلى درجہ کی قربانی پيش كرنے كے ليے تھا۔
انطوان بارا (عيسائى مفكّر)
تاريخ اولين و آخرين (تاريخ آدميت) ميں كسى بھى اقدام قربانى كو وه مقام و منزلت نصيب نہيں ہوئى جو امام حسين عليہ السّلام كى قربانى اور شهادت كو حاصل ہوئى جو حيرت ميں ڈالنے والى اور انسانيت كے لیے درس عبرت و كشش كى حامل ہے۔
(امام حسين عليہ السّلام عيسائيوں كے فكر ميں)
توماس کارلیل (اسكاچستانى مورّخ اور مضمون نِگار، ١٨٨١ – ١٧٩٥)
"سب سے اہم درس ہم نے واقعۂ كربلا سے حاصل كيا كے امام حسين عليہ السّلام اور ان كے اصحاب و انصار جو مكمل طريق سے الله پر ايمان و يقين ركھتے تھے, اور انھوں نے يہ ثابت كرديا حق و باطل كے مقابل ميں كثرت لشكر كى كوئى اہميت نھيں ہوتى اور جس چيز نے مجھكو حيرت و تعجب ميں ڈال ديا وه امام حسين عليہ السّلام كى مختصر فوج كے ساتھ فتح و ظفر ہے۔"
Charles Dickens - English novelist, ١٨١٢-١٨٧٠
اگر امام حسین عليہ السّلام کا مقصد حصول حكومت و دنيا تھا تو میں نہیں سمجھ پارہاہوں، كہ امام حسين عليہ السّلام اپنے ہمراه اپنے بچوں اور خواتين کو کیوں لیکر گئے؟ پس عقل كہتی ہے كہ امام حسين عليہ السّلام كی قربانى صرف اور صرف اسلام کو بچانے كے ليے تھی۔
ادوارد جی. برون (پروفسر، کيمرج يونيورسٹی ١٩٢٦ – ١٨٦٢)
"واقعۂ كربلا جو خون آلود، اس كى ياد، جہاں پر نواسہ رسول كو شہيد كيا گيا، اور بہت زياده بھوک و پياس كى اذيتوں سے دوچار كيا، اور اسكى آنكھوں كے سامنے اس كے عزيز و اقارب و اولاد كے لاشے پڑے ہوے تھے، يہ واقعۂ الم و درد اس وقت سے ليكر آج تک لوگوں كے وجدان و ضمير ميں غم و الم كى كيفيت پيدا كررہا ہے، يہاں تک كہ وه لوگ جو اس سے بيگانہ ہيں وه بھى جب واقعۂ كربلا كو درد و غم، اور موت كى تلخى ان كے ليے كوئى چيز نہيں رہتى۔"
(تاريخ علمى ايران، صفحۂ: ٢٢٧، لندن، ١٩١٩)
سوامی شنکراچریا (ہندوستانی پیشوا، ١٩٥٣ – ١٨٧١)
"قربانى امام حسين عليہ السّلام كے سبب اسلام كا نام باقی ہے اگر امام حسين عليہ السّلام كى قربانى نہ ہوتی تو اسلام كا نام دنيا سے مٹ جاتا۔"
مسز سرجوينى نيدو (ہندوستانى پوئٹ اور سياسى ليڈر ١٨٧٩-١٩٤٩)
"میں تمام مسلمانوں کو مبارک باد دیتا ہوں كہ امام حسین عليہ السّلام مسلمانوں میں سے ہیں حسین عليہ السّلام ایک عظیم شخصیت کے مالک ہیں ان کی وجہ سے پوری دنیا میں امة مسلمہ کو شرف حاصل ہے۔"
محمد اقبال (سياسی، فلسفی، شاعر، ١٨٧٧-١٩٣٨)
"امام حسين عليہ السّلام نے ہميشہ ہميشہ كے ليے ظلم و استبداد كی بنياديں اكھاڑ پھنيكيں اور قربانى امام حسين علي السّلام سے گلستان آزادى ميں بہار آگئ اور يہ حقيقت ہے كہ امام حسين عليہ السلام نے امة مسلمة كو خواب غفلت سے بيدار كيا۔ اگر امام حسين عليہ السّلام حكومت دنيا چاہتے تو اس انداز ميں مدينہ سے نہ نكلتے جسطرح آپ اپنے اہل وعيال کے ہمراه عزم سفر ہوۓ۔ امام حسين عليہ السّلام كى عظيم قربانى حق و حقانيت كے ليے تھى، اور بالتأكيد امام حسين عليہ السّلام نے اپنى شہادت كے ذريعہ سے اسلامى عقيده كى بنياد ركھى؛ لا إله إلا الله"
ہنگاری اوریانتلیست ١٨٥٠-١٩٢١
امام حسین عليہ السّلام کے اہل بیت پر جو ظلم و جور ہوئے اس پر رونا، اور ان کا غم منانا اور شہداء کے لئے اپنے حزن کو ظاہر کرنا، امام حسین عليہ السّلام کے چاہنے والوں کے درمیان سے ختم ہونا نا ممکن ہے یہاں تک کہ عربوں کے نزدیک شیعوں گریہ امام حسين عليہ السّلام کے لیۓ مثال بن گیا
(Introduction to Islamic Theology and Law, Princeton, ١٩٨١, p.١٧٩)
ڈاکٹر کرشن رادھا (صدر ہندوستان ١٩٦٢-١٩٦٧)
امام حسین عليہ السّلام کی قربانی کو ايک طويل عرصہ ہوگیا لیکن اسکی روح آج تک قلوب بشر کے لیے راہنمائی کررہی ہے۔
ماهتما گاندی (سیاستمدار و رهبر روحان هند ١٩٤٨ – ١٨٦٩)
میں جانتا ہوں کہ اسلام کی ترقی و کامیابی تلوار (خون ريزى) کی بدولت نہیں ہے بلکہ امام حسین عليہ السّلام كی عظيم اور پاک و پاكيزه قربانی كى بدولت ہے میں نے امام حسین عليہ السّلام سے سیکھا ہے کہ مظلوم ہوکر بھی کیسے جیتا جاتاہے۔
پنڈت جواہر لال نہرو (صدر اول ہندوستان ١٨٨٩-١٩٦٤)
امام حسین عليہ السّلام کی قربانی پوری انسانیت کے لئے تھی اور یہ قربانی سب (انسانوں بغير تفريق مذہب و ملت) کے لئے نمونہ عمل ہے۔
رابندرناتھ ٹيگور (نوبل انعام يافتہ در شعبہ ليٹريچر، ١٩١٣، ١٨٦١-١٩٤١)
حق اور انصاف کی حفاظت کے لئے فوج اور اسلحے کی ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ قربانی کے ذریعے سے بھی حق و عدل کی حفاظت کی جا سکتی ہے جیسے کہ امام حسین عليہ السّلام نے قربانی کے ذریعے فتح حاصل کی۔
ڈاکٹر راجندرا پرساد (نائب رئيس ہند ١٨٨٤-١٩٦٣)
قربانی امام حسین عليہ السّلام کسی ایک ملک یا کسی ایک امت سے مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسی عظیم وراثت ہے جس میں پوری انسانیت شامل ہے قربانی امام حسین عليہ السّلام نے اسلام کو زندہ رکھا ہے اگر یہ قربانی نہ ہوتی تو نام اسلام دنيا سے مٹ جاتا۔
خواجا مونودین چیستی (١٢٣٠ – ١١٤١)
اس ميں كوئی شک نہیں كہ امام حسين عليہ السّلام نے كربلا كے ميدان ميں عقيده اسلاميہ کلمہ لا إلہ إلا اللہ بنياد ركھى جيسے كہ معين الدّين چشتى نے كہاتھا: شاه است حسين، بادشاه است حسين۔ دين است حسين، دين پناه است حسين۔ سر داد نہ داد دست در دست يزيد۔ حق كہ بناء لا إلہ است حسين۔