حسین (ع) کے لئے محبت

"اگر امام حسین (ع) ھم میں سے ایک ھوتے، تو ھم دنیا کے ہر خطے میں ان کے نام پر ایک پرچم اور ایک مینار بلند کر چکے ھوتے اور ھم عیسائیت کے لئے لوگوں کو دعوت دیتے!"

عیسائی سکالر، انٹونی بارا فرماتے ہیں، کہ یہ جملے ایک عیسائی پادری نے امام حسین (ع) کے زمانے میں کہے تھے.

یہ سال کا وہ وقت ہے جس میں مختلف رنگ و نسل اور مختلف طبقات کے لوگ امام حسین کی عظیم قربانی کی یاد میں اور بنی نوع انسان کے لئے اخلاقی اقدار اور حق کے تحفظ کی خاطر مجالس غم منعقد کرتے اور شرکت کرتےھیں۔

کچھ گروہ ، لا دینی سماج ، مختلف مذاھب اور فرقوں کے لوگ ھم سے کہتے ہیں کہ امام حسین (ع) کی یاد منانا بنیاد پرستی ھے۔ ہمیں اکثر کہتے ہیں کہ ہم کو امام حسین (ع) اور کربلا کے واقعہ کو بھول جانا چاہئے۔ انکی حجت یہ ہوتی ہے کہ ہم اپنے آپ کو قوم اور دنیا سے منقطع کرتے ہیں.

مزید پڑھیے

امام حسين (ع) كى محبت ديگر أديان ميں

بعض مشهور افراد كے بيانات
مزید پڑھیے
انتڑويو عيسائى عالم كے ساتھ
ڈاؤن لوڈ (PDF)
امام حسين (ع) اور ہندوں كی محبت
ڈاؤن لوڈ (PDF)
ہندوں كا پيار جناب عباس (ع) كے لیے
ڈاؤن لوڈ (PDF)

عزادارى ديگر أديان ميں

"جناب يعقوب نے اپنے لباس كو تار تار كيا اور ٹاٹ كے كپڑے پہنے"

يهوديت
مزید پڑھیے

"اپنے سينہ پر ماتم كرنا اور اپنے جسم پر زخم پہونچانا"

عيسائيت
مزید پڑھیے
عیسائیت میں عزاداری

عیسائیوں کی عزاداری کے تجربات اس مختصر دستاویزی فلم میں بیان کۓ گۓ ھیں۔

ویڈیو دیکھنے کے

خود تکلیف تشريح

خود تکلیف کا تصور ہم سب کے لیے معروف ہے۔ ہم میں سے بھت با قاعدہ طور پر کوئی صورت میں خود تکلیف میں شریک ہوتے ہیں.

اگرچہ خود تکلیف کے اعمال پرانی مقدس کتابوں میں نظر آتی ہیں، وہ صرف ہمارے مذاھب کی طرف محدود نہیں ہیں۔ یہ ایک عمل ہے جو عموما تمام معاشروں کو قبول ہے۔ حقيقت میں، امکانات ہیں کہ آپ، یا کوئی جسے آپ جانتے ہوں گے، غالبا حال ہی ميں کوئی صورت میں خود تکلیف میں حصہ لیا ہے۔ ایئے دیکھیں لادينی معاشرہ کو، جہاں بہت سے افراد رضامندانہ ہیں دردناک تجربات کا سلسلہ جو عموما 'پلاسٹک سرجری' کے نام سے معروف ہے یا 'اچھا لگنے' کے لیے خود تکلیف جھیلنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ یہ افعال اس فائدہ اٹھانے کی کوشش میں انجام دیتے ہیں کہ اپنے جسم کی پوری طرح سے 'ملکیت' حاصل کرلیں.

جس طرح وہ لوگ جو اپنی ظاہری صورت تبدیل کرتے ہیں دردناک ذریعہ سے اور اپنے آپ کو قربان اور محروم کرتے ہیں تاکہ اپنے جسمانی یا دنیاوی مقاصد کو حاصل کریں، وہ لوگ جو دین کی تقلید کرتے ہیں خوشی سے مختلف اعمال خود پر انجام دیتے ہیں تاکہ روحانی آرزوئیں حاصل کریں اور جسمانی پابندیوں پر قابو پایئں۔ دنیا کے بڑے مذاھب روحانی فائدوں کو پہچانتے ہیں، اور معروف ہے کہ کئی لادینی گروہوں جیسے کہ دیسی اور قدیمی لوگ بھی ان افعال کو انجام دیتے ہیں، ان کی تاثیر جانتے ہوے روحانی طاقت کو بڑھانے کے لیے.

مزید پڑھیے