امام زمان (عج) كا فرمان
جسكو شيخ محمد مہدى زين العابدين نجفى نے اپنی كتاب {بيان الأئمة} ج ٢، ص ٤٦١ اور ٤٦٢، ميں اسطرح بيان كيا ہے جس وقت علماء ہمارے دار آيۃ الله العظمى شيخ زين العابدين نجفى كے كرامات كو ذكر كرتے ہیں تو ان كى يہ كرامت بهی بيان كرتے ہیں:
كہ ايران، آذربيجان، قفاقسيا كے رہنے والوں نےعلماء نجف اشرف سے ان تاشوں كے بارے ميں سوال کيا جو عزادارى امام حسين عليه السلام ميں بجائے جاتے ہیں اور اس كے علاوه قمع زنى اور زنجير زنی اور شبيہ... و غيره كے بارے ميں سوال كيا، كيا يہ امور حرام ہیں يا جائز؟
مزید پڑھیےشاعر امام حسین
تمام علماء کرام اور مراجع عظام نے عزاداری امام حسین علیہ السلام کو نہ صرف جائز بتایا ہے اور اسے مسلسل کرتے رہنے پر زور دیا ہے جسے شیعہ امتداد زمانہ کے ساتھ انجام دیتے آرہے ہیں۔ بلکہ مراجع کرام نے رغبت دلائی ہے اور اعلان کرتے رہے ہیں کہ قمہ زنی اور تمام طرح کی عزاداری امام حسین علیہ السلام مستحب ہے اگرچہ واجب نہ ہو۔
نیچے دئیے گئے فتوں میں چند بزرگ مراجع عظام کے فتوے ہیں جن کو ہم شروع کرتے ہیں استاد العلماء آیة اللہ شیخ حسین نائینی سے کہ جو حوزہ علمیہ نجف اشرف کے بڑے استادوں میں سے تھے۔











