شروع ہمارے خدا کے نام سے جو جلد معاف اور محبت کرنے والا ہے۔ مجہے آپ کے سوالات کے تلغراف نامے اور خطوط وصول ہوئے ہیں۔ اب کہ میں شھر نجف اشرف سلامتی سے پہنچ چکا ہوں (الحمد للہ)، آپ کے سوالات کے جوابات دوں گا مختلف سوگ کے طریقوں کے بارے میں جو محرم کے پھلے دس دنوں اور عاشورہ کے دن کو کیئے جاتے ہیں امام حسین (ع) کی شھادت کی یادگاری کے رسموں میں۔
اولاً: یہ ظاہر ہے کہ محرم کے پھلے دس دنوں میں عام طور پر لوگوں کے گروہ اور ہجوم سوگ مناتے ہیں گلیوں اور عوامی راستوں پر، اور بے شک یہ افعال صرف جائز ہی نہیں بلکہ مستحب ہیں، اور ان کا واضح مقصد یادگاری سید الشھدآء کی طرف ہے۔ یہ رسمیں بہترین ذرائع ہیں مقصد امام حسین بن علی (ع) کو آگے بڑھانے کے لئے قرآن مجید کو محفوظ رکھنے اور حقیقی مذہب کو بچانے میں، فاصلے اور دور دور تک۔ مگر، ان اعمال کو ہر حرام اور گناہ سے پاک ہونا چاہیئے جیسے کہ موسیقی گانے، سامان موسيقی کو کھیلنا اور ناچنا، الجھنا اور دھکا دینا ہجوم کے اندر، اور لڑائی کرنا۔ مگر، اگر گناہ ہو جائیں تو ان اعمال کی پاکبازی کو اثر نہیں کریں گے جو یادگاری شھادت امام حسین (ع) میں کیئے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ ایسا ہی ہے جیسے کہ اگر ایک آدمی نماز پڑھتے ہوئے نامحرم عورت کو دیکھے، اس نے گناہ کیا مگر اس کی نماز جائز ہے۔
ثانیاً: اپنے آپ کو سینے اور چھرے پر مارنا جائز ہے، حتی کہ اگر وہ بدن کو لال یا کالا کردے۔ اسی طرح، زنجیروں کا استعمال (نوکیلا یا بغیر نوکیلا) کندھوں اور پيٹھ پر جو بدن کو لال یا کالا کردے یا حتی خون کو نکالے جائز ہے۔ بحوالہ خود کو سر پر تلوار سے لگانا جو خون کو نکالے، اگر اپنی صحت پر بغیر کوئی ضرر کے کیا جائے، تو جائز ہے۔ وہ اعمال جو سر سے خون کو نکالیں ان کو کھوپڑی پر نقصان پھنچانے بغیر کرنا چاہیئے، اور عام طور پر یہی صورت حال ہے، کیونکہ جو یہ عمل کرتے ہیں ان کے پاس صحیح مھارت ہے۔ اگر خود کو سر پر تلوار سے مارتے وقت، کسی کو یقین تھا ماضی تجربوں سے کہ کوئی نقصان نھی پھنچے گا، مگر یہ عمل کرتے وقت بھت زیادہ خون نکلنے لگا، تو وہ شخص قصور وار نہی ہے اور عمل کرنے کا ثواب کم نھی ہوتا ہے۔ یہ ایسا ہے جیسے کہ ایک شخص جو وضو اور غسل کرتا ہے یہ سوچتے ہوے کہ پانی کا استعمال اس کے بدن کے لیے نقصان دہ نھی ہے یا وہ جو روزہ رکھتا ہے ماہ رمضان میں یقین سے کہ روزہ رکھنا اسے ضرر نھی کرے گا، مگر بعد میں ظاہر ہوتا ہے کہ یہ در حقيقت اس کے بدن کو نقصان پھنچایا - تو وہ قصور وار نہی ہے اور ان مذہبی اعمال کی پاکبازی بھی کم نھی ہوتی ہے۔ خدا کرے ہمارے وقف کو صحیح راستے پر محفوظ رکھے اس دنیا اور آخرت میں۔
ثالثاً: اداکاری کی مشق کرنا جائز ہے جیسے کہ جو شیعوں میں صدیوں سے معمولی ہیں جن میں شاید مرد عورت کے لباس پھنے یا عورت مرد کے لباس پھنے تھوری دیر کے لیے، تاکہ غمزدہ ہوں اور دوسروں کو رلا سکیں اپنے جسم کا 'مادّی' ظہور تبدیل کرنے کے بغیر۔ مگر، حرام ہے مرد کے لیے اپنے آپ کو 'جسمانی طور پر' عورت جیسا ظاھر کرنا اپنے بدنی ظہور کو تبدیل کرکے اور اس کے برعکس۔ احتیاط لازم ہے کہ مذہبی اداکاری کی مشق میں حرام کام نا ہوجائیں اور حتی کہ ایسا گناہ ہوجائے، تو اس مذہبی عمل کی پاکبازی ناتواں نھی ہوتی ہے، جیسے پھلے واضح کیا گیا ہے۔
چوتھے: سامان موسيقی کا عام استعمال جائز ہے (جیسے کہ ڈھول، سنج اور سینگ)، اگر وہ ایسی آواز بنانے کے لیے استعمال ہوں جو روایتاً امام حسین (ع) کے غموں کی رسموں میں سنتے ہیں، جیسے کہ جو عموماً عرب استعمال کرتے ہیں اور آج نجف میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔